رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ اب نہیں کوئی بات خطرے کیاب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے اب نہ وہ عشق میں رہے باقیہم بھی اب ترکِ عشق کرتے ہیں غم کو بھی اب گلہ نہیں ہم سےدل بھی بے درد ہو چلا آخر اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں تو نے پوچھا نہیں کبھی مجھ سےمیں نے سب کچھ کہا تھا آنکھوں سے خود سے بھی ملنے کو جی نہیں چاہتااب تو بس تیرا ہی انتظار رہتا ہے تم جو تھے، سب کچھ تھا تم جو گئے، کچھ بھی نہ رہا تمہاری خاموشی نے، سب کچھ کہہ دیانہ کوئی وعدہ نبھا، نہ کوئی خواب بچا وقت بدل گیا ، پر درد وہی ہےنام تمہارا نہیں لیا ، پر سانسوں میں خوشبو وہی ہے کیا بتائیں کتنے تنہا ہیںتیرے بعد، خود سے بھی خفا ہیں یاد کرتا ہوں تجھے خاموشی سےکہ شور میں تیرا ذکر کھو جاتا ہے اب تو ہم ہیں اور تیری یادیںتنہائی اور زخموں کی راتیں کیسے یقین کرے ہم تیری محبّت کا جب بکتی ہے بے وفائی تیرے ہی نام سے مجھ سے میری وفا کا ثبوت مانگ رہے ہو خود بے وفا ہو کے مجھ سے وفا مانگ رہے ہو کچھ نہیں بدلہ محبّت میں یہاں بس بے وفائی عام ہو گئی ہے میری محبّت سچی ہے اس لئےتیری یاد آتی ہے اگر تیری بے وفائی سچی ہے تو اب یاد مت آنا وہ کہتے ہے کی مجبوریاں ہے بہت صاف لفظوں میں خود کو بے وفا نہیں کہتے میرے فن کو تراشا ہے سبھی کے نیک ارادوں نے کسی کی بے وفائی نے کسی کے جھوٹے وعدوں نے اپنے تجربے کی آزمائش کی زد تھی ورنہ ہم کو تھا معلوم کے تم بے وفا ہو جاؤ گے اسکی بے وفائی پے بھی فدا ہوتی ہے جان اپنی اگر اس میں وفا ہوتی تو کیا ہوتا خدا جانے تو نے ہی لگا دیا الزامِ بے وفائی عدالت بھی تیری تھی گواہ بھی تو ہی تھی اب نہ وہ شوق باقی رہانہ دل وہ رہا، نہ حالتم جو چلے گئے توسب کچھ بدل گیا ہے کسے خبر تھی کہ یہ ہجریوں زندگی بدل دے گامسکراہٹیں چھین لے گااور تنہائی بخش دے گا نہ گلہ ہے کسی سےنہ شکایت کی فرصت ہےبس تنہائی سے دوستی ہےاور خاموشی سے محبت ہے روٹھا ہوا ہوں خود سےبس یونہی جیتا جا رہا ہوںکہتے ہیں لوگ خوش ہوںپر اندر سے بکھرا پڑا ہوں تم نے وعدہ کیااور پھر چھوڑ دیاہم نے اعتبار کیااور سب کچھ کھو دیا نہ تم نے سوال کیانہ ہم نے جواب دیاخاموشی ہیہماری کہانی بن گئی غم دیا تُو نے، دوا نہ دی دل تو لے گیا، وفا نہ دی ہم کو اپنی خبر نہیں رہتیاور تُو پوچھتا ہے حال کیسا ہے مل ہی جائے گا کوئی نہ کوئی ٹوٹ کے چاہنے والا اب شہر کا شہر تو بے وفا ہو نہیں سکتا بے وفائی کا موسم بھی اب یہاں آنے لگا ہے وہ پھر سے کسی اور کو دیکھ کر مسکرانے لگا ہے دل بھی گستاخ ہو چلا تھا بہت شکر ہے کی یار ہی بے وفا نکلا بہت عجیب ہے یہ محبت کرنے والے بے وفائی کرو تو روتے ہیں اور وفا کرو تو رولاتے ہیں تیری بےوفائی پے لکھوں گا غزلیں سنا ہے ہنر کو ہنر کاٹتا ہے سکھا دی بے وفائی تمھیں بھی ظالم زمانے نے تم جو سیکھ لیتے ہو ہم ہی پے آزماتے ہو اتنی مشکل بھی نہ تھی راہمیری محبّت کیکچھ زمانہ خلاف ہواکچھ وہ بےوفا ہوئے اتوں میں تلخی لہجے میں بےوفائیلو یہ محبّت بھی پہنچی انجام پر محبّت سے بھری کوئی غزل انہیں پسند نہیںبےوفائی کے ہر شعر پہ وہ داد دیا کرتے ہیں جو کیا ہوتا ہم نے پیارکسی سچے انسان سےیوں تکلیف تو نہ ہوتیاس بےوفا سے دل لگا کے اس دور میں کی تھی جس سے وفا کی امیدآخر اسی کے ہاتھ کا پتھر لگا مجھے مجھے معلوم ہے ہم اُن کے بنا جی نہیں سکتے ان کا بھی یہی حال ہے مگر کسی اور کے لئے چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا تو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی صرف ایک ہی بات سیکھی ان حسن والوں سے ہم نے حسین جس کی جتنی ادا ہے وہ اتنا ہی بے وفا ہے میری وفاؤں کو ٹھکرا دینے والے کاش تجھے بھی کسی بے وفا سے پیار ہو جائے رہنے دے یہ کتاب تیرے کام کی نہیں اس میں لکھے ہوئے ہے بے وفاؤں کے تذکرے وفا نبھا کے وہہمیں کچھ دے نہ سکےپر بہت کچھ دے گئےجب وہ بےوفا ہوئے وہ سنا رہے تھے اپنی وفاؤں کے قصےہم پر نظر پڑی تو خاموش ہو گئے اب بھی تڑپ رہا ہے تو اسکی یاد میںاس بےوفا نے تیرے بعد کتنے بھلا دیے رسوا کیوں کرتے ہو تم عشق کو اے دنیا والوںمحبوب تمہارا بےوفا ہے تو عشق کا کیا گناہ کچھ الگ ہی کرنا ہے تو وفا کروبےوفائی تو سب نے کی ہے مجبوری کے نام پر کسی بےوفا کی خاطر یہ جنوں کب تکجو تمھیں بھول چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ Leave a Reply Cancel replyYour email address will not be published. Required fields are marked *Name * Email * Website Comment * Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.