ماں کا انتظار
پلیٹ فارم نمبر تین پر خزاں کی شام کا سکوت چھایا ہوا تھا۔ دھندلی روشنیوں میں وہ بوڑھی عورت، سفید چادر اوڑھے، ایک پرانے سے ٹین کے صندوق پر بیٹھی، ریل کی پٹریوں کو یوں تکے جا رہی تھی جیسے وہ لوہے کی نہیں، اس کی امیدوں کی ڈور ہوں جن سے وہ برسوں سے بندھی بیٹھی ہے۔
اس کا نام فاطمہ تھا — گاؤں کی ایک سادہ، جفاکش، اور صابر عورت۔ شوہر کو جوانی میں ہی کھو دیا تھا۔ حارث، اس کا اکلوتا بیٹا، اس کی زندگی کا کل اثاثہ تھا۔ فاطمہ نے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اسے پالا تھا۔ خود دن میں محنت مزدوری کرتی، کپڑے دھوتی، گھروں میں کام کرتی، مگر بیٹے کو اسکول جانے دیتی، یہ سوچ کر کہ “میرا بیٹا بڑا آدمی بنے گا۔”
جب حارث میٹرک میں کامیاب ہوا تو فاطمہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اس نے اپنے خوابوں کا رنگ دیکھا تھا بیٹے کی آنکھوں میں۔ حارث شہر چلا گیا، پڑھائی کے لیے، پھر نوکری کے لیے۔ ابتدائی دنوں میں وہ باقاعدگی سے ماں کو خط لکھتا، پیسے بھی بھیجتا۔ کبھی کبھی فون پر بات بھی ہو جاتی۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، رابطے کم ہوتے گئے۔ پہلے خط آنا بند ہوئے، پھر فون کالز بھی ناپید ہو گئیں۔
فاطمہ کا دل ہر دن دھڑکتا رہتا۔ ہر گاؤں آنے والے ڈاکیے سے پوچھتی: “میرے بیٹے کا کوئی خط ہے؟”
ہر عید پر نئی چپل، نئے کپڑے، اور میٹھا تیار کرتی — “حارث آئے گا، اسے پسند ہے شکر پارے۔”
ہر بار مایوسی اس کی چوکھٹ پر دستک دیتی، مگر وہ ماں تھی، ہار کہاں مانتی۔
پچھلے سات برسوں سے وہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو اسٹیشن آتی۔ ایک پرانا تھیلا ہاتھ میں لیے، جس میں بیٹے کے بچپن کی تصویریں، بچپن میں بنایا ہوا کارڈ، ایک ٹوٹی ہوئی گھڑی، اور وہ پرانا رومال تھا جس پر کشیدہ کاری سے لکھا تھا: “میری ماں، میری جنت۔”
آج بھی وہ اسٹیشن پر بیٹھی تھی، جیسے وقت رک گیا ہو۔ گاڑی آئی، لوگ اترے، جذباتی مناظر بکھرے، کوئی ماں کو گلے لگا رہا تھا، کوئی بہن کے لیے تحفہ لایا تھا، کوئی بیوی کے لیے کھلونے لایا تھا۔ مگر فاطمہ کی آنکھیں ایک ہی چہرہ تلاش کرتی رہیں — وہ چہرہ جو برسوں پہلے اس کے آنگن سے گیا تھا۔
ریل چل پڑی، دھواں اڑتا گیا، ہجوم بکھرتا گیا، شور خاموشی میں بدل گیا۔ فاطمہ کے چہرے پر ایک عجیب سی شکستہ مسکراہٹ ابھری، جیسے وہ اندر سے خود کو یقین دلا رہی ہو — “شاید اگلی بار…”
اس دن واپسی پر رکشے والے نے پوچھا:
“بی بی جی، اب بھی امید ہے؟”
فاطمہ نے بڑی نرمی سے کہا:
“ماں کا دل کبھی خالی نہیں ہوتا بیٹا، وہ امید کی زمین پر جیتا ہے۔”
گھر جا کر فاطمہ نے مٹی کے چراغ جلائے، بیٹے کی پرانی شرٹ کو سینے سے لگا کر بیٹھ گئی۔ اندھیرے کمرے میں بیٹے کی آوازیں گونجتی رہیں — “ماں، میں آ گیا…”
وہ مسکرا دی، آنکھیں بند کیں، اور دل میں ایک نئی تاریخ طے کی — “اگلے مہینے، ضرور آئے گا۔”
لیکن اگلا مہینہ نہیں آیا۔
وہ صبح جب محلے کی عورتیں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں، تو فاطمہ اپنی چارپائی پر خاموش لیٹی تھی۔ ہاتھ میں وہی رومال تھا، جس پر لکھا تھا “میری ماں، میری جنت”، اور چہرے پر ایک پُرسکون مسکراہٹ۔
کہا جاتا ہے کہ اگلے دن شہر سے ایک آدمی گاؤں آیا۔ وہ لمبا سا سوٹ پہنے، آنکھوں میں شرمندگی لیے، اسٹیشن سے سیدھا اس ٹوٹے دروازے کے سامنے رکا۔ وہ حارث تھا۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔