دوستی کی قیمت
ایک چھوٹے سے گاؤں میں دو بہترین دوست رہتے تھے جن کے نام احمد اور علی تھے۔ احمد بہادر اور حوصلہ مند تھا جبکہ علی شرمیلا اور محتاط تھا، مگر دونوں کی دوستی پورے گاؤں میں مشہور تھی۔ لوگ اکثر کہتے، “دیکھو یہ ہیں اصل دوست!
” ایک صبح جب وہ گاؤں کے چوک میں کھیل رہے تھے، گاؤں کے عقلمند بزرگ حکیم صاحب نے انہیں اپنے پاس بلایا۔ ان کے ہاتھ میں ایک پراسرار نقشہ تھا جس پر ایک پہاڑ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، “بیٹا، تمہیں پہاڑ کی چوٹی پر موجود قدیم دانش کے درخت سے ایک خاص پتہ لانا ہے، مگر یاد رکھنا، راستہ آسان نہیں ہوگا۔ یہ تمہاری دوستی کا امتحان ہوگا!”
دونوں دوست کھانے پینے کا سامان باندھ کر چل پڑے۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد ان کے سامنے ایک خوفناک دریا آیا جس کا پانی تیزی سے بہہ رہا تھا اور لہریں پتھروں سے ٹکراتی ہوئی گرج کی آواز نکال رہی تھیں۔ علی گھبرا گیا اور اس کے پیر کانپنے لگے، “ارے! ہم تو ڈوب جائیں گے!
” احمد نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا، “ڈر مت یار! یاد رکھو، جب ہم ساتھ ہوں تو کوئی مشکل بڑی نہیں ہوتی۔” دونوں نے اردگرد دیکھا تو ایک لمبی لکڑی پڑی نظر آئی۔ انہوں نے مل کر اس لکڑی کو پکڑا اور دریا پار کرلیا۔ دریا پار کرتے ہی علی خوشی سے چلایا، “واہ! ہم نے کر دکھایا!”
اب ان کے سامنے ایک گھنا اور تاریک جنگل تھا جہاں درخت اتنی کثافت سے اگے ہوئے تھے کہ سورج کی روشنی بھی زمین تک نہیں پہنچ پاتی تھی۔ جنگل سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں۔ علی کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں اور اس نے ڈرتے ہوئے کہا، “چلو یار واپس چلتے ہیں… یہ جگہ بہت خطرناک لگ رہی ہے۔
” احمد نے اپنی پشت پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “ارے یار! سورج ڈوبنے سے پہلے ہمیں درخت تک پہنچنا ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں نا؟ پھر ڈرنا کیسا؟” دونوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور گیت گاتے ہوئے جنگل میں داخل ہوگئے۔
احمد نے راستہ بھولنے سے بچنے کے لیے درختوں پر نشان لگاتے چلے۔ اچانک جنگل کے آخر میں ایک عجیب منظر نظر آیا – ایک چمکدار، سنہری پتوں والا شاندار درخت جو پورے جنگل میں روشنی پھیلا رہا تھا۔ یہ وہی دانش کا درخت تھا جس کا حکیم صاحب نے ذکر کیا تھا۔
درخت کے قریب پہنچتے ہی ایک سنہرا پتہ ہوا میں تیرتا ہوا نیچے آیا۔ احمد نے اسے اٹھایا تو دیکھا کہ اس پر چمکدار حروف میں لکھا ہوا تھا: “دوستی کا اصل خزانہ ایک دوسرے کا ساتھ ہے۔” واپسی پر جب وہ حکیم صاحب کے پاس پہنچے تو بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تم نے نہ صرف پتہ حاصل کیا بلکہ یہ بھی ثابت کردیا کہ سچی دوستی ہر مشکل کو آسان بنا دیتی ہے!” اس دن کے بعد سے گاؤں کے تمام بچے احمد اور علی کی طرح ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے، اور یوں یہ کہانی ایک اچھے سبق کے ساتھ ختم ہوئی کہ سچے دوست کبھی ایک دوسرے کو تنہا نہیں چھوڑتے، مل کر کام کرنے سے ہر مشکل حل ہوجاتی ہے، اور ہمت و یقین کامیابی کی کنجی ہیں۔